Press Release 30th Dec. 2011 (Urdu)
On Friday, December 30th, 2011 under
PRESS RELEASE
ہم اپنی آج کی پریس کانفرنس کا آغاز صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی سے کرتے ہیں جنہوں نے سچ کی ترسیل کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ کئی طرح کے ظلم، خوف، اغوا، دھمکیاں حتٰی کہ قتل تک آپ کو اپنے فرض کی تکمیل سے نہ روک سکے۔ ڈیفینس آف ہیومن رائٹس آپ کو سلام پیش کرتی ہے اور آپ کی مشکلات کو دل سے محسوس کرتی ہے۔ سال گزشتہ میں 10 صحافیوں کا قتل یہ ظاہر کرتا ہے کہ صحافی اور جبری گمشدگی کا شکار افراد ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور ایک ہی طرح کے چیلینجوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
سال 2011 بھی پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اس سال کی اہم بات صدر پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک قانون ہے جس میں جبری گمشدگی کو قانونی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومت اور اس کے نمائندے حتی لاوسعٰی کوشش کرتے رہے ہیں کہ جبری گمشدگی کے کیسوں کی سماعت کرنے والی عدالتوں کو الجھاۓ رکھیں۔ ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کی اعصاب شکن جدوجہد کے باوجود جبری گمشدگیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ڈیفینس آف ہیومن رائٹس صدر پاکستان آصف علی زرداری کی طرف سے جاری کردہ دو قوانین ( ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن 2011 براۓ فاٹا اور براۓ پاٹا ) پہ شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔ یہ قانون آرمی افسروں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو گرفتار اور قید کر سکتے ہیں اورسزا سنا سکتے ہیں۔ قید کی مدت کا کوئی تعین نہیں کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ یہ قید لا محدود بھی ہو سکتی ہے۔ اس قانون کے نام سے لگتا ہے کہ شائد یہ صرف قبائلی علاقوں کے لئے ہے مگر حقیقتا اس کا اطلاق پاکستان کے ہر شہری پر ہو سکتا ہے۔ ہم ایسے ہر قانون کی مذمت کرتے ہیں چاہے وہ صرف فاٹا کے لۓ ہو یا پورے پاکستان کے لیے۔ یہ بڑی شرمناک بات ہے کہ یہ قانون انڈیا کے پبلک سیفٹی ایکٹ سے بھی ذیادہ قابل اعتراض ہے۔ دونوں قوانین کا تقابلی مطالعہ واضح کر دے گا کہ ہماری حکومت اپنے امریکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیۓ انڈیا سے بھی نیچے گر چکی ہے۔
انسانی حقوق کی تذلیل کی بدترین مثال وہ گیارہ افراد ہیں جن کو پچھلے سال اڈیالہ جیل سے اٹھا لیا گیا تھا۔ بھیانک تشدد کے شکار ان افراد میں سے تین کو قید میں ہی ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ان کے خاندانوں کو چپ رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے مبادہ خاندان کے باقی افراد بھی اسی انجام کا شکار نہ ہو جائیں۔ اس طرح کے واقعات جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کے لیۓ مذید اذیت اور خوف کا باعث ہیں۔
ہمارا مقصد ہر قیمت پر انصاف کی ترویج اور درست قوانین کی مضبوطی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم شدت سے جبری گمشدگی کی مذمت کرتے ہیں۔ شہریوں کو اغوا کرنا اور پھر کبھی ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہ کرنا عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا بدترین ذریعہ ہے۔ اس ظالمانہ طریقہ کا موجد ہٹلر تھا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیۓ دست و بازو کا کام کرتے ہیں۔ پاکیستانی کارپرداذان حکومت نے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی سرکردگی میں جبری گمشدگی کو نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں بنیادی اوزار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ مگر مشرف کی رخصتی کے بعد بھی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جن لوگوں نے مشرف کی جگہ لی ہے وہ اسی کی غلامانہ پالیسیوں کو جاری رکھے ہوۓ ہیں۔
سال 2011 نے ہمیں دکھا دیا ہے کہ غلامی، ذندگی کی ضانت نہیں ہوتی۔ اس نازک وقت میں حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ضرورت اس چیز کی ہے کہ تمام پالیسیوں کی بنیاد عام آدمی کی آزادانہ راۓ پر رکھی جاۓ۔ انھیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ صرف انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی فراہمی سے ہی دل جیتے جا سکتے ہیں۔ حقیقت پسندی تقاضا کرتی ہے کہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ سے کنارہ کشی کی جاۓ اور اس کے تمام نقصانات کا ازالہ کیا جاۓ۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیۓ جن کو اذیت، ظلم اور جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور عدالتوں کی تمام تر کاوشوں کے باوجود جبری گمشگیوں کی تعداد دگنی سے بھی ذیادہ ہو چکی ہے۔ اس چیز پر قابو پانا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک متعلقہ اداروں میں دانشمندانہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس سال کے اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ جبری گمشگی ہر کسی کے لیۓ مخالفین پہ قابو پانے کا آسان ہتھیار بن چکی ہے چاہے یہ پولیس ہو یا ایجنسیاں، قبائلی گروپ ہوں یا لینڈ مافیا۔
|
Punjab
|
Sind
|
KPK
|
Baloch.
|
AJ @ K
|
ICT
|
DHR Total
|
Released
|
7
|
1
|
3
|
0
|
1
|
0
|
12
|
Traced
|
1
|
0
|
1
|
0
|
0
|
0
|
2
|
Still Missing
|
50
|
9
|
16
|
3
|
2
|
1
|
81
|
Total
|
58
|
10
|
20
|
3
|
3
|
1
|
95
|
اوپر دیۓ گیۓ اعدادوشمار صرف سال 2011 سے متعلق ہیں۔ پچھلے سالوں کے 300 سے ذیادہ کیس ابھی وہیں کھڑے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنی کی ضرورت ہے کہ بیشمار کیس بوجوہ رجسٹر نہیں ہو پاتے۔ وزارت داخلہ کے پاس رجسٹرڈ کیسوں کی تعداد 418 ہے۔
سول اور فوجی قیادت کو ہماری سرحدوں اور سالمیت کو لاحق خطرات کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔ حقیقی دشمن کی پہچان اور اس کی سازشوں کی شناخت بھی بے حد ضروری ہے۔ یہ دشمن ہمارے دوست کا روپ دھارے ہوۓ ہے مگر اس کا سیاہ چہرہ اس کی حرکتوں کی وجہ سے واضح ہو چکا ہے۔ مختصرا وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنی قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیں “امریکہ گھر جاؤ۔ اب اور نہیں ۔۔۔۔ ” کا نعرہ اپنایں اور اس پر قائم رہیں۔
ڈیفینس آف ہیومن رائٹس تمام متعلقہ اداروں، حکومت، فوج، ایجنسیوں اور تمام سیاسی اور سماجی پارٹیوں سے التجا کرتی ہے کہ جبری گمشدگی کے لئۓ اپنا کردار ادا کریں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون کی حفاظت سے محروم تمام قیدیوں کو رہا کیا جاۓ۔ گوانتانمو، باگرام اور سی آئی اے کے تمام عقوبت خانوں میں قید لوگوں کو آزادانہ ٹرائل کا حق دیا جاے اور رہا کیا جاۓ۔
ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کا وعدہ ہے کہ جدوجہد جاری رکھی جاۓ گی۔ ہم انصاف کی تگ و دو میں ایک لمحے کی بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ اور اگر ہمارے مطالبات پورے نہ کیے گۓ تو ہم اسلاماباد کی سڑکوں پہ تادم مرک دھرنا دینے پر مجبور ہو جایں گے۔ یہی ہمارا نئۓ سال کا عہد ہے۔ انشااللہ